مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا کہ اکتوبر کے مہینے میں اس علاقے پر اسرائیلی حملوں میں 14 طلبہ اور تعلیمی شعبے کے 8 افراد شہید ہوئے ہیں۔
وزارت کے بیان کے مطابق، شہید طلبہ کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔
شہید ہونے والے 8 افراد میں 4 اساتذہ شامل ہیں؛ جبکہ 3 افراد غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین تھے۔
غزہ کی وزارتِ تعلیم کے مطابق، ایک خاتون پروفیسر ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر حملے میں شہید ہوئیں۔
غزہ کی وزارتِ تعلیم نے یہ بھی بتایا کہ اسکولوں اور تعلیمی خیموں پر حملوں میں متعدد طلبہ، یونیورسٹی طلبہ اور تعلیمی عملہ زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت کے مطابق، رہائشی علاقوں اور تعلیمی مراکز کی طرف اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے باعث خان یونس، دیر البلح، البریج کیمپ اور شمالی غزہ کے کئی حصوں میں کلاسیں بند رہیں یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق، محاصرے اور گزرگاہوں کے بند رہنے کی وجہ سے اسکالرشپ پر بیرونِ ملک جانے والے طلبہ غزہ سے باہر سفر نہیں کر سکے۔
ایندھن کی کمی نے طلبہ کی آمد و رفت اور تعلیمی مراکز کی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
غزہ کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں علاقے کے 95 فیصد اسکول متاثر ہوئے ہیں۔
وزارتِ تعلیم کے جولائی 2026 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اس وقت تک غزہ میں 20 ہزار 51 سے زائد طلبہ اور 532 اساتذہ شہید ہو چکے ہیں۔
وزارت نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ طلبہ اور اساتذہ کے تحفظ کے لیے تعلیمی مراکز پر حملے رکوائے جائیں اور اسکولوں کی تعمیرِ نو کے لیے درکار سامان کو غزہ میں داخل ہونے دیا جائے۔
رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے معاہدے پر عمل شروع ہونے کے بعد سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار 593 فلسطینی شہید اور پانچ ہزار 748 زخمی ہو چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ